حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ سندھ جامشورو پاکستان میں ’’قرآنِ پاک بحیثیتِ آفاقی یونیورسٹی اور انسانی کردار سازی کا خدائی نظام‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی قرآنی سیمینار منعقد ہوا، جس میں ملکی و غیر ملکی محققین، علماء، اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیمینار کا اہتمام جامعہ سندھ کے شعبۂ تقابلِ ادیان و اسلامی ثقافت نے ادارہ حفظِ قرآن صراطِ الٰہی، حیدرآباد کے تعاون سے پیر حسام الدین راشدی انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی، جامعہ سندھ جامشورو میں کیا۔
سیمینار کے مرکزی مقرر تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر چتچیان تھے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآنِ پاک آج کے دور میں بھی اسی طرح ایک جامع اور مفید کتابِ حیات ہے جس طرح رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں تھی۔ قرآن ایک مکمل اور آفاقی یونیورسٹی ہے، جس میں انسان کی تربیت، کردار سازی، علم، تحقیق، اخلاق اور زندگی کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج کا انسان پریشانی، بے چینی اور بیماریوں سے نجات چاہتا ہے تو اسے قرآن کی طرف لوٹنا ہوگا۔ قرآن ہی انسان کو سچا، امانت دار، صابر اور انسانیت کا خادم بناتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ درس گاہوں اور یونیورسٹیوں میں قرآنی تحقیقات کو جدید سائنس اور علوم کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی، حیدرآباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیٹ جنرل کے کلچرل اتاشی اور کلچر سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن مسلمانوں کو متحد کرتا ہے اور ایران و پاکستان کے عوام قرآن سے محبت کے رشتے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے سیمینار دونوں ممالک کے علمی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے قرآن کی تلاوت، معانی، تدبر اور اس پر عمل کے حوالے سے رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نقطۂ نظر کو بھی بیان کیا۔
مہمانِ اعزازی، جامعہ سندھ کی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر حافظ منیر احمد خان نے کہا کہ درس گاہوں اور یونیورسٹیوں کی بنیادی ذمہ داری قرآن کی تحقیق و تدریس کو فروغ دینا ہے۔ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی روشنی میں جدید تحقیقات کریں تاکہ نوجوان نسل کو علم کے ساتھ عمل کی دولت بھی حاصل ہو۔

سیمینار کی چیف آرگنائزر اور شعبۂ تقابلِ ادیان و اسلامی ثقافت کی چیئرپرسن ڈاکٹر ناہید آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر مسئلے اور ہر بیماری کا علاج قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے میں ہے۔ جس گھر، معاشرے اور ادارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کیا جائے گا، وہاں امن، سکون، محبت اور ترقی کا ماحول پیدا ہوگا۔

ادارہ حفظِ قرآن صراطِ الٰہی کے ڈائریکٹر سید زاہد علی کاظمی نے چیف آرگنائزر ڈاکٹر ناہید آرائیں اور ان کی پوری ٹیم، بالخصوص ایسوسی ایٹ پروفیسر عبدالرحمن، فیکلٹی کے ڈین اور خصوصی طور پر وائس چانسلر پروفیسر فتح محمد مری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر تدبر و تفکرِ قرآن کے ایسے سیمینار ہر ماہ ایک مرتبہ بھی منعقد کیے جائیں تو یونیورسٹی کے طلبہ کی علمی بصیرت قرآنی فکر سے آراستہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انسان ہمیشہ خدا کی رحمتوں کے نزول کا خواہاں ہے تو اس کا واحد راستہ قرآن کی تلاوت کرنا اور اسے سننا ہے۔

سیمینار کے دوران سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مختلف علمی و تحقیقی سوالات پیش کیے۔
پروگرام کے اختتام پر سندھ کی ثقافتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مہمانوں کو اجرک، سندھی ٹوپیاں اور لنگیاں پہنائی گئیں، جبکہ مقررین اور شرکاء میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔










آپ کا تبصرہ